عورتوں کے عالمی دن پر اشعار
وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں
علامہ اقبال
۔۔۔
کون بدن سے آگے دیکھے عورت کو
سب کی آنکھیں گروی ہیں اس نگری میں
حمیدہ شاہین
۔۔۔
وہ تھک گئی تھی بھیڑ میں چلتے ہوئے ظہور
اس کے بدن پہ ان گنت آنکھوں کا بوجھ تھا
ظہور منہاس
۔۔۔
تم بھی آخر ہو مرد کیا جانو
ایک عورت کا درد کیا جانو
سیدہ عرشیہ حق
۔۔۔
ایک کے گھر کی خدمت کی اور ایک کے دل سے محبت کی
دونوں فرض نبھا کر اس نے ساری عمر عبادت کی
زہرا نگاہ
۔۔
شہر کا تبدیل ہونا شاد رہنا اور اداس
رونقیں جتنی یہاں ہیں عورتوں کے دم سے ہیں
منیر نیازی
۔۔۔۔
ترے ماتھے پہ یہ آنچل بہت ہی خوب ہے لیکن
تو اس آنچل سے اک پرچم بنا لیتی تو اچھا تھا
اسرار الحق مجاز
۔۔۔۔۔
عورت کو سمجھتا تھا جو مردوں کا کھلونا
اس شخص کو داماد بھی ویسا ہی ملا ہے
تنویر سپرا
۔۔۔
ایک عورت سے وفا کرنے کا یہ تحفہ ملا
جانے کتنی عورتوں کی بد دعائیں ساتھ ہیں
بشیر بدر
۔۔۔۔۔۔۔
دیکھ کر شاعر نے اس کو نکتۂ حکمت کہا
اور بے سوچے زمانہ نے اسے عورت کہا
شاد عارفی
۔۔۔
روشنی بھی نہیں ہوا بھی نہیں
ماں کا نعم البدل خدا بھی نہیں
انجم سلیمی
۔۔۔
عورت نے جنم دیا مردوں کو مردوں نے اسے بازار دیا
جب جی چاہا مسلا کچلا جب جی چاہا دھتکار دیا
ساحر لدھیانوی
۔۔۔۔۔۔
بتاؤں کیا تجھے اے ہم نشیں کس سے محبت ہے
میں جس دنیا میں رہتا ہوں وہ اس دنیا کی عورت ہے
اسرار الحق مجاز
۔۔۔۔۔۔۔
طلاق دے تو رہے ہو عتاب و قہر کے ساتھ
مرا شباب بھی لوٹا دو میری مہر کے ساتھ
ساجد سجنی
۔۔۔
بیٹیاں باپ کی آنکھوں میں چھپے خواب کو پہچانتی ہیں
اور کوئی دوسرا اس خواب کو پڑھ لے تو برا مانتی ہیں
افتخار عارف
۔۔۔۔
یہاں کی عورتوں کو علم کی پروا نہیں بے شک
مگر یہ شوہروں سے اپنے بے پروا نہیں ہوتیں
اکبر الہ آبادی
۔۔۔
عورت اپنا آپ بچائے تب بھی مجرم ہوتی ہے
عورت اپنا آپ گنوائے تب بھی مجرم ہوتی ہے
نیلما سرور
۔۔۔
تو آگ میں اے عورت زندہ بھی جلی برسوں
سانچے میں ہر اک غم کے چپ چاپ ڈھلی برسوں
حبیب جالب
۔۔۔
عورت ہوں مگر صورت کہسار کھڑی ہوں
اک سچ کے تحفظ کے لیے سب سے لڑی ہوں
فرحت زاہد
۔۔۔
جس کو تم کہتے ہو خوش بخت سدا ہے مظلوم
جینا ہر دور میں عورت کا خطا ہے لوگو
رضیہ فصیح احمد
Comments
Post a Comment