سقف سکوں نہیں تو کیا، سر پہ یہ آسماں تو ہے
سقفِ سکوں نہیں تو کیا، سر پہ یہ آسماں تو ہے
سایۂ زُلف اگر نہیں، دھوپ کا سائباں تو ہے
آنکھ کے طاق میں وہ ایک، جل اُٹھا نجمِ نیم جاں
درد کی رات ہی سہی، کوئی سحر نشاں تو ہے
جاگ رہا ہوں رات سے لذّتِ خواب کے لیے
نیند نہیں جو آنکھ میں جوئے شب رواں تو ہے
پاؤں ہیں زخم زخم اگر، دل ہے اگر فگارِ عشق
تیرے حصول کا مجھے، وہم تو ہے، گماں تو ہے
دل ہے اگر بجھا ہوا، جاں ہے اگر لٹی ہوئی
چشمِ سحر فریب کا آئینہ ضو فشاں تو ہے
عشق و جنوں کے باب میں چاہیے کارِ رفتگاں
اے مرے جذبۂ وفا! جی کا ذرا زیاں تو ہے
شہر ستمگراں وہی، پھر صفِ دشمناں وہی
خالدِؔ خستہ جاں کے پاس تیر نہیں، کماں تو ہے
خالدؔ علیم
Comments
Post a Comment