Posts

Showing posts with the label سعید شارق

شب کے تہہ خانے میں اترا اور اندر رہ گیا

سنگ کی طرح سماعت پہ ہنسی لگتی ہے

نکالنے کو وہی روز و شب دفینے سے

اشک کیسے یہ کوئی اور نمی نکلی ہے

خود کو ہر روز کھولتا ہوں میں

میری دیوار سے ویرانی کے ٹکرانے سے

تیری آواز میں تیری ہی ہنسی ہنستی ہے

سنگ کی طرح سماعت پہ ہنسی لگتی ہے

وقت کر دے نہ کہیں داغ میں تبدیل مجھے

چاہے دنیائیں بسا چاہے خلا سے بھر دے

اکیلے سالگرہ مَیں نے کب منائی تھی

ردائے اشک میں لپٹی ہوئی نہیں لگتی