ردائے اشک میں لپٹی ہوئی نہیں لگتی
ردائے اشک میں لپٹی ہوئی نہیں لگتی
بغور دیکھ! یہ میری ہنسی نہیں لگتی
نہ جانے کیسا مکاں بن رہا ہے سینے میں!
سڑک تو کیا اِسے کوئی گلی نہیں لگتی
نہیں ہوں منتظر اُس ہاتھ کے پیالے کا
مگر یہ کیا کہ مجھے پیاس ہی نہیں لگتی!
لہو میں تیرتا رہتا ہے اک اندھیرا دن
سو کوئی رات بھی مجھ کو نئی نہیں لگتی
نظر لگی ہے یہ کن زرد زرد آنکھوں کی!
گیاہِ خشک ہوں اور آگ بھی نہیں لگتی
سعید شارق

Comments
Post a Comment