جھوٹی ہی تسلی ہو کچھ دل تو بہل جائے

جھوٹی ہی تسلّی ہو ، کچھ دل تو بہل جائے
دھندلی ہی سہی لیکن، اک شمع تو جل جائے



 اُس موج کی ٹکّر سے ساحل بھی لرزتا ہے
کچھ روز جو طوفاں کے آغوش میں پل جائے
اے جلوہؑ جانانہ!! پھر ایسی جھلک دکھلا
حسرت بھی رہے باقی، ارماں بھی نکل جائے
اِس واسطے چھیڑا ہے پروانوں کا افسانہ
شاید ترے کانوں تک پیغامِ عمل  جائے
میخانۂ ہستی میں مے کش وہی مے کش ہے
سنبھلے تو بہک جائے، بہکے تو سنبھل جائے
ہم نے تو فناؔ اِتنا مفہومِ غزل سمجھا
خود زندگئ شاعر اشعار میں  ڈھل جائے

فناؔ نظامی کانپوری

Comments