اب کوئی نیند کی سُولی سے اتارے تم کو
اب کوئی نیند کی سُولی سے اتارے تم کو
مار ڈالیں نہ کہیں خواب تمھارے تم کو
جس سہولت سے ہمیں ہار دیا ہے تم نے
اُس سہولت سے کبھی کوئی نہ ہارے تم کو
ایک جگنو کو ہتھیلی سے اُڑانے والے
مل نہ پائیں گے کبھی چاند ستارے تم کو
ہائے چھوڑا ہی نہیں عرشِ تغافل تم نے
کوئی کتنا ہی زمینوں سے پکارے تم کو
میں بھی دیکھوں گا کنارے سے،طلب کی کشتی!
کون دیتا ہے تلاطم میں سہارے تم کو
یاد کر لینا فقیروں کی شکستہ پائی
دشتِ ہجراں اگر اپنے سے گذارے تم کو
رنجِ دنیا جو بگاڑے تو دعا ھے میری
دونوں ہاتھوں سے غمِ عشق سنوارے تم کو
جاؤ تم چین کی بستی کو مگر یاد رہے
بھول جائیں نہ کہیں درد کے مارے تم کو
فرشِ رنداں کے مکینوں نے تمہیں جانا ہے
جان پائے نہ کبھی بُرج مُنارے تم کو
اب تو آنکھوں میں ہی سب توڑ رہے ہو نیّر
یاد آئیں گے یہی خواب ہمارے تم کو
شہزاد نیّر
Comments
Post a Comment