نہ جانے آج اہل شوق کیوں بیٹھے ہیں گم سم سے
نہ جانے آج اہلِ شوق کیوں بیٹھے ہیں گُم سُم سے
نہ اپنے آپ سے مطلب، نہ کوئی واسطہ تُم سے
بہ یَک آہنگ کیا کِیا، حُسن کے جلوے نظر آئے
تبسّم سے، تکلّم سے، ترنّم سے، تلاطم سے
سِتارے اَشک بھر لاتے تھے، راتیں مُسکراتی تھیں
کہیں کوئی مِرے اشعار پڑھتا تھا ترنّم سے
یہی دل ہے کہ خاک اُڑتی تھی کل تک، آج اُسی دل کو
گُلستاں دَر گُلستاں کر دیا، موجِ تبسّم سے
یہ نازک وقت! یہ عشقِ نشاط آگیں! قیامت ہے
نہ کوئی آس دُنیا سے، نہ کوئی آسرا تُم سے
اِسی دُنیا کے کچھ نقش و نگار اَشعار ہیں میرے
جو پیدا ہو رہی ہے حق و باطل کے تصادم سے
نگاہیں دیکھتی ہیں اِک نئی دُنیا کے دَر کُھلتے
بظاہر بیٹھے رہتے ہیں فراقؔ، اِن روزوں گُم سُم سے
فراق گورکھپوری

Comments
Post a Comment