جس کو دیکھا عذاب میں دیکھا

آنکھ کا اعتبار کیا کرتے
جو بھی دیکھا، وہ خواب میں دیکھا



 داغ سا ماہتاب میں پایا
زخم سا آفتاب میں دیکھا
کِس نے چھیڑا تھا سازِ ہَستی کو؟
ایک شُعلہ رُباب میں دیکھا
لوگ کُچھ مُطمئن بھی تھے پھر بھی
جس کو دیکھا عذاب میں دیکھا
ہِجر کی رات سو گئے تھے، عدمؔ
صُبحِ محشر کو خواب میں دیکھا
عبد الحمید عدم

Comments