Posts

Showing posts with the label ارتضیٰ نشاط

دیکھئے اور ابھی سامنے آتا کیا ہے

نظروں سے گرے دل سے اتر کیوں نہیں جاتے

مری زندگی کا عجب بھاﺅ ہے

ایک سے ایک ہے رستم کے گھرانے والا

اچانک یوں کوئی بھولا ہوا سا خواب ملتا ہے

زندگی ڈوبتی نبضوں کی صدا لگتی ہے

مجھے بات آگے بڑھانی نہیں ہے

کیا رات کوئی کاٹ سکے رات کی طرح