Posts

Showing posts with the label اعتبار ساجد

دلیلیں منطقیں اور فلسفے بے کار ہوتے ہیں

تجھ سے بچھڑ کر آنکھوں کو نم کس لیے کریں

گھر کی دہلیز سے بازار میں مت آ جانا

نہ دوائیں پُراثر ہیں نہ دُعائیں، کیا بتائیں

ہمارا حال کچھ یوں ہے ترے دربان کے آگے

کسی کا نام سنتے ہی لرز اٹھتے ہیں لب اس کے

نکل کر قصر سے تیرے ٹھکانہ ڈھونڈ ہی لیتا

نہ خط لکھوں نہ زبانی کلام تجھ سے رہے

وہ یکسر مختلف ہے منفرد پہچان رکھتا ہے

آج پھر ستائے گی رات پورے چاند کی

چلی ہے شہر میں اب کے ہوا ترک تعلق کی

رابطے رشتے نہ دیوار نہ در سے اس کے

یہ تو ہم کہتے نہیں سایہ ظلمت کم ہے

جانے کس چاہ کے کس پیار کے گن گاتے ہو

یہی تھا جان من بالکل ہمارا حال پہلے بھی

ذرا ٹھہرو دعا کے ساتھ ہی انعام لے جانا

ہیں یوں تو بہت آپ کی قُربت سے بھی محروم

کوئی بھیڑ جیسی یہ بھیڑ ہے کسی دوسرے کا پتا نہیں

تری طرح کوئی بھی غمگسار ہو نہیں سکا

معلوم نہ تھا ہم کو ستائے گا بہت وہ