Posts

Showing posts with the label مومن خان مومن

مار ہی ڈال مجھے چشم ادا سے پہلے

دل میں اس شوخ کے جو راہ نہ کی

موۓ نہ عشق میں جب تک وہ مہرباں نہ ہوا

میں اگر آپ سے جاؤں تو قرار آ جائے

خوں نکہت گل جنبش ہے جی کا نکل جانا

ناوک انداز جدھر دیدۂ جاناں ہونگے

ڈر تو مجھے کس کا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا

دل بستگی سی ہے کسی زلف دوتا کے ساتھ

میں اگر آپ سے جاؤں تو قرار آ جائے

آنکھوں سے حیا ٹپکے ہے انداز تو دیکھو

قہر ہے موت ہے قضا ہے عشق

ٹھانی تھی دل میں اب نہ ملیں گے کسی سے ہم

ہے دل میں غبار اس کے گھر اپنا نہ کریں گے

مومن خان مومن کے اشعار

ہر غنچہ لب سے عشق کا اظہار ہے غلط

وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو 

دُعا بَلا تھی شبِ غم سُکُونِ جاں کے لیے

ہم جان فدا کرتے ، گر وعدہ وفا ہوتا

اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا

آخری وقت میں کیا خاک مسلماں ہوں گے