Posts

Showing posts with the label بشیر بدر

یہ چراغ بے نظر ہے یہ ستارہ بے زباں ہے

چھت پہ آجاؤ مرا شعر مکمل کر دو

مری زندگی بھی مری نہیں یہ ہزار خانوں میں بٹ گئی

بے وفا باوفا نہیں ہوتا

پتھر کے جگر والو غم میں وہ روانی ہے

زمانہ کچھ نہیں بدلا محبت اب بھی باقی ہے

میرے ساتھ تم بھی دعا کرو یوں کسی کے حق میں برا نہ ہو

مسافر کے رستے بدلتے رہے

یہ کسک کی دل میں چبھی رہ گئی

رکھنا مت پرکھنے میں کوئی اپنا نہیں رہتا

یہ چاندنی بھی جن کو چھوتے ہوئے ڈرتی ہے

غزل کو ماں کی طرح با وقار کرتا ہوں

اداس رات ہے کوئی تو خواب دے جاؤ

ہے عجیب شہر کی زندگی نہ سفر رہا نہ قیام ہے

وہ غزل والوں کا اسلوب سمجھتے ہوں گے

اگر تلاش کروں کوئی مل ہی جائے گا

بشیر بدر ، شعر

میں سو گیا تو کلیجہ ہی چاک کردے گی

مری غزل کی طرح اس کی بھی حکومت ہے

اداسی آسماں ہے دل مرا کتنا اکیلا ہے