Posts

Showing posts with the label اختر شیرانی

کچھ تو تنہائی کی راتوں میں سہارا ہوتا

جلوہ آنکھوں پہ چھا گیا کس کا

اگر اے نسیم سحر ترا ہو گزر دیار حجاز میں

کس نے پھر چھیڑ دیا قصہ لیلائے حجاز

اک محبت تھی مٹ چکی یا رب

میں آرزوئے جاں لکھوں یا جان آرزو

ہم جس کو چاہتے ہیں وہ زہرہ جبیں کہاں

تمناؤں کو زندہ آرزوؤں کو جواں کر لوں

بھلا کیوں نہ ہوں راتوں میں نیندیں بے قرار اس کی

سمجھتا ہوں میں سب کچھ، صرف سمجھانا نہیں آتا

کیا کہہ گئی کسی کی نظر کچھ نہ پوچھیے

وہ کبھی مِل جائیں تو کیا کیجئے

تمناؤں کو زندہ آرزوؤں کو جواں کر لوں 

شب کو پہلُو میں جو وہ ماہِ سِیہ پوش آیا