Posts

Showing posts with the label لیاقت علی عاصم

گزشتہ سال کے سکھ اب کے سال دے مولا

پھر وہی بے دلی پھر وہی معذرت

کیا صرف اسی لیے تھا سارا سفر ہمارا

پھرے دشت دشت شاید در و بام کی اداسی

ڈرتا ہوں اپنے آپ سے وحشت نہیں مجھے

حوصلے دیدہ بیدار کے سو جاتے ہیں

سستانے کو بیٹھا ہوں ستانے نہیں آیا

ڈوبتی ناؤ تم سے کیا پوچھے

عاجز تھا، بے عجز نبھائی رسم جدائی میں نے بھی

دشت کی تیز ہواؤں میں بکھر جاؤ گے کیا

سچ کہا اے صبا صحن گلزار میں دل نہیں لگ رہا

میرؔ کو بدنام کرتا پھر رہا ہے شہر میں

جیسے کہ رات بیت گئی خواب کے بغیر

ہمیں تو شرم ہی آتی ہے گھر بدلتے ہوئے

چراغ بھی دسترس سے باہر ہے اور ہوا بھی

کوئی آس پاس نہیں رہا تو خیال تیری طرف گیا

کیا خوب یہ انا ہے کہ کشکول توڑ کر

دشت کی تیز ہواؤں میں بکھر جاؤگے کیا

کھلی کھلی سی محبت ہرا بھرا دکھ ہے