چراغ بھی دسترس سے باہر ہے اور ہوا بھی
چراغ بھی دَسترس سے باہر ہے اور ہَوا بھی
عجیب ہوتا ہے نارسائی کا سلسلہ بھی
یہ گردشوں کے عجیب دن ہیں، عجیب راتیں
کہ دل کو دَھڑکا ہے ہجر کا بھی وصال کا بھی
مُجھے دوراہے پہ لانے والوں نے یہ نہ سوچا
میں چھوڑ دُوں گا یہ راستہ بھی، وہ راستہ بھی
گُداز ہوتا نہیں ہے پانی میں رہ کے پتّھر
ہمارے حلقے میں آ کے بدلا نہ وہ ذرا بھی
دُرونِ صحرائے ذات کب سے بھٹک رہی ہے
تِری رعُونت کے سائے سائے مِری اَنا بھی
یہ کون مُجھ میں سَما گیا ہے کہ آج مُجھ سے
گُریز کرنے لگی ہیں آنکھیں بھی، آئینہ بھی
لیاقت علی عاصم

Comments
Post a Comment