Posts

Showing posts with the label بسمل عظیم آبادی

بجھ گئی وہ بھی سر شام ہوا آنے سے

اب ملاقات کہاں شیشے سے پیمانے سے

ساری امید رہی جاتی ہے

خزاں جب تک چلی جاتی نہیں ہے

اب رہا کیا ہے جو اَب آئے ہیں آنے والے

جب کوئی غنچہ چمن کا بن کھلے مرجھائے ہے

جب کبھی نام محمد لب پہ میرے آئے ہے

تنگ آ گئے ہیں کیا کریں اس زندگی سے ہم

نگاہ قہر ہوگی یا محبت کی نظر ہوگی

یہ بت پھر اب کے بہت سر اٹھا کے بیٹھے ہیں

چمن کو لگ گئی کس کی نظر خدا جانے

اک کشش ہے جو لئے پھرتی ہے در در مجھ کو

سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے

رخ پہ گیسو جو بکھر جائیں گے

میری دعا کہ غیر پہ ان کی نظر نہ ہو

خزاں کے جانے سے ہو یا بہار آنے سے

کہاں آیا ہے دیوانوں کو تیرا کچھ قرار اب تک

نہ اپنے ضبط کو رسوا کرو ستا کے مجھے

جب کبھی نام محمد لب پہ میرے آئے ہے