Posts

Showing posts with the label وسیم بریلوی

اپنے ہر ہر لفظ کا خود آئینہ ہو جاؤں گا

کہ تو مل بھی اگر جائے تو اب ملنے کا غم ہوگا

کہ میں بھٹکوں تو بھٹک کر بھی اسی تک پہنچوں

زمیں والے تجھے زمیں پر چلنے نہیں دیں گے

وسیم بریلوی شعر

لہو نہ ہو تو قلم ترجماں نہیں ہوتا

دریا کا سارا نشہ اترتا چلا گیا

اداسیوں کی کوئی شہریت نہیں ہوتی

کہیں حیات اسی فاصلے کا نام نہ ہو

میں اس امید پہ ڈوبا کہ تو بچا لے گا

میں‌چاہتا بھی یہی تھا وہ بے وفا نکلے

وسیم بریلوی شعر

محبت نا سمجھ ہوتی ہے سمجھانا ضروری ہے

کیا دکھ ہے سمندر کو بتا بھی نہیں سکتا

اس نے میری راہ نہ دیکھی اور وہ رشتہ توڑ لیا

رنگ بے رنگ ہوں خوشبو کا بھروسہ جائے

سب نے ملائے ہاتھ یہاں تیرگی کے ساتھ

آتے آتے مرا نام سا رہ گیا

آپ ناراض ہوں روٹھیں کہ خفا ہو جائیں

دعا کرو کہ کوئی پیاس نذر جام نہ ہو