دریا کا سارا نشہ اترتا چلا گیا
دریا کا سارا نشہ اترتا چلا گیا
مجھ کو ڈبویا اور میں ابھرتا چلا گیا
وہ پیروی تو جھوٹ کی کرتا چلا گیا
لیکن بس اس کا چہرہ اترتا چلا گیا
ہر سانس عمر بھر کسی مرہم سے کم نہ تھی
میں جیسے کوئی زخم تھا بھرتا چلا گیا
منزل سمجھ کے بیٹھ گئے جن کو چند لوگ
میں ایسے راستوں سے گزرتا چلا گیا
دنیا سمجھ میں آئی مگر آئی دیر سے
کچّا بہت تھا رنگ، اترتا چلا گیا
پروفیسر وسیم بریلوی
Comments
Post a Comment