وہ بے دلی میں کبھی ہاتھ چھوڑ دیتے ہیں
وہ بے دلی میں کبھی ہاتھ چھوڑ دیتے ہیں
تو ہم بھی سیر سماوات چھوڑ دیتے ہیں
جب ان کے گرد کہانی طواف کرنے لگے
تو درمیاں سے کوئی بات چھوڑ دیتے ہیں
دعا کریں گے مگر اس مقام سے آگے
تمام لفظ جہاں ساتھ چھوڑ دیتے ہیں
دیے ہوں اتنے کہ خوابوں کو راستہ نہ ملے
تو شہر اپنی روایات چھوڑ دیتے ہیں
ہر ایک شاخ پہ جب سانپ کا گماں گزرے
فقیر کشف و کرامات چھوڑ دیتے ہیں
جمال اپنے نظاروں میں کھوگیا اے دل
سو اس ک میز پہ سوغات چھوڑ دیتے ہیں
غلام محمد قاصر
Comments
Post a Comment