Posts

Showing posts with the label فراز

عید کارڈ

نوحہ گروں میں دیدۂ تر بھی اسی کا تھا

جسم شعلہ ہے جبھی جامہ سادہ پہنا​

مرے رسول کہ نسبت تجھے اجالوں سے

تری یادوں کا وہ عالم نہیں ہے

سو صلیبیں تھیں ہر اک حرف جنوں سے پہلے

اجل سے خوف زدہ زیست سے ڈرے ہوئے لوگ

ہجر جاناں کی گھڑی اچھی لگی

کچھ ایسے ہم نے خرابے بسائے شہروں میں

یوں دل سے کسی درد کا پیماں نہیں کرتے

خود کو ترے معیار سے گھٹ کر نہیں دیکھا

آنکھ سے دور نہ ہو دل سے اتر جائے گا

قربت بھی نہیں دل سے اتر بھی نہیں جاتا

واپسی ، احمد فراز

ایک دیوانہ یہ کہتے ہوئے ہنستا جاتا

نہ دل سے آہ نہ لب سے صدا نکلتی ہے

تجھ سے مل کر تو یہ لگتا ہے کہ اے اجنبی دوست 

فراز اب کوئی سودا کوئی جنوں بھی نہیں

ترس رہا ہوں مگر تو نظر نہ آ مجھ کو 

زلف راتوں سی ہے رنگت ہے اجالوں جیسی