نہ دل سے آہ نہ لب سے صدا نکلتی ہے
نہ دل سے آہ نہ لب سے صدا نکلتی ہے
مگر یہ بات بڑی دور جا نکلتی ہے
ستم تو یہ ہے کہ عہدِ ستم کے جاتے ہی
تمام خلق میری ہمنوا نکلتی ہے
وصالِ بحر کی حسرت میں جویے کم مایہ
کبھی کبھی کسی صحرا میں جا نکلتی ہے
میں کیا کروں میرے قاتل نہ چاہنے پر بھی
تیرے لیے میرے دل سے دعا نکلتی ہے
وہ زندگی ہو کہ دنیا فراز کیا کیجے
کہ جس سے عشق کرو بےوفا نکلتی ہے
احمدفراز
Comments
Post a Comment