وہ تو کیا سب کے لیے فیصلہ دشوار نہیں
وہ تو کیا سب کے لیے فیصلہ دشوار نہیں
اک طرف برف کے ڈھیر ایک طرف شعلۂ طور
اک طرف ساعتِ شب ایک طرف صبحِ نوید
اک طرف آگ کی رو، ایک طرف حور و قصور
اک طرف لذّتِ ہر رنگ سو وہ بھی فوراً
اک طرف وعدۂ فردا سو وہ نزدیک نہ دور
اس کے اس طرزِ تغافل کی شکایت کیسی
ہاں مگر اس سے یہ ادنیٰ سی شکایت ہے ضرور
اک چرائے ہوئے ناپاک تبسّم کے عوض
اس نے بیچا ہے سلگتے ہوئے اشکوں کا غرور
مصطفیٰ زیدی
Comments
Post a Comment