شوق دیدار پردہ در نہ ہوا
شوقِ دیدار پردہ دَر نہ ہوا
مطمئن جذبہ نظر نہ ہوا
جو نہ ہونا تھا ، عمر بھر نہ ہوا
نخلِ اُمید باروَر نہ ہوا
اہلِ دل کی وفا شعاری کا
اُس جفا جُو پہ کچھ اثر نہ ہوا
ہم ہوئے لاکھ سب سے بیگانے
وہ نہ اپنا ہوا مگر،نہ ہوا
منزلِ عشق تھی کٹھن ایسی،
کوئی بھی میرا ہمسفر نہ ہُوا
جس طرف انتظار میں ہم تھے
اُس طرف آپ کا گزر نہ ہُوا
خانہ دل تھا غیر سے خالی
پھر بھی وہ شوخ جلوہ گر نہ ہوا
ہائے افسوس وہ میری چاہت کا
ان کو احساس عُمر بھر نہ ہوا
خاکِ پروانہ ہو گئی برباد
کوئی پرساں دمِ سحر نہ ہوا
میرے حالات سے نصیر اب تک
باخبر، کوئی بےخبر نہ ہوا
پیر نصیر الدین پیر
Comments
Post a Comment