ہم اپنی طرف ان کی نظر دیکھ رہے ہیں
ہم اپنی طرف اُن کی نظر دیکھ رہے ہیں
حیرت ہے کہ وہ آج اِدھر دیکھ رہے ہیں
محفل میں نہیں اور کوئی شغل ہمارا
ہم آپ کے اندازِ نظر دیکھ رہے ہیں
نیرنگیِ عالم کا یہ عالم ، ارے توبہ
کیا کہیۓ ، جو ہم شام و سحر دیکھ رہے ہیں
ہم کو نظر آتا نہیں کچھ اور کہیں بھی
جلوے ترے تاحدِ نظر دیکھ رہے ہیں
بیٹھا ہُوا چُپ چاپ یہ میں دیکھ رہا ہُوں
دَزدیدہ نظر سے وہ اِدھر دیکھ رہے ہیں
وہ لوگ نصیرؔ ! اپنے گریباں میں بھی جھانکیں
جو لوگ مرے عیب و ہُنر دیکھ رہے ہیں
پیرنصیر الدین نصیرؔ گیلانی
Comments
Post a Comment