بصورت غم نو ،عرصہءملال میں آ
بصورت غم نو ،عرصہء ملال میں آ
مکین وہم ! کبھی قریہء سوال میں آ
یہ کم شعور تجھے یوں سمجھ نہ پائیں گے
جو استعارہ نہیں تو کسی مثال میں آ
یہ زود خرچی کہیں آنکھ کا زیاں تو نہیں
مدام بہتے ہوئے بحر ! اعتدال میں آ
تُو مجھ سے کیوں نہیں کہتا کہ خود کو مت چاہو ں
خموش کس لیے بیٹھا ہے ، اشتعال میں آ
یقین کر مَیں خوشی سے تجھے گزاروں گا
گزشتہ وقت ! بس اک بار عہدِِ حال میں آ
پکارتا ہے کوئی جسم آج بھی شارقؔ
بھٹکتی روح ! کبھی میرے خدّوخال میں آ
(سعید شارق)
Comments
Post a Comment