Posts

Showing posts with the label محسن نقوی

میں خود زمیں ہوں مگر ظرف آسمان کا ہے

بچھڑ کے مجھ سے یہ مشغلہ اختیار کرنا

ہم یوسف زماں تھے ابھی کل کی بات ہے

نہ سماعتوں میں تپش گھلے نہ نظر کو وقف عذاب کر

میرے خیال کو نسبت ہوئی مدینے سے

تن پہ اوڑھے ہوئے صدیوں کا دھواں شامِ فراق

چاندنی جھیل نہ شبنم نہ کنول میں ہو گا

چمن میں جب بھی صبا کو گلاب پوچھتے ہیں

ضدوں سمیت کبھی دل کو چھوڑنا ہو گا

جتنے بھی سخنور ہیں سبھی مہر بہ لب ہیں

آج کے دن کی روشن گواہی میں ہم

آؤ وعدہ کریں

آنکھوں میں کوئی خواب اُترنے نہیں دیتا

اک دیا دل میں جلانا بھی بجھا بھی دینا

تعزیر اہتمام چمن کون دے گیا

نہ شورش غم دوراں نہ خودسری اپنی

اپنے آپ سے پھرتے ہیں بیگانے کیوں

وہ روٹھ کر بھی مجھے مسکرا کے ملتا ہے

آنکھیں کھلی رہیں گی تو منظر بھی آئیں گے

سوز اتنا تو نوا میں آئے