Posts

Showing posts with the label کلاسیکی شعراء

چمن میں گل نے جو کل دعوی جمال کیا

کہاں تک رازِ عشق افشا نہ کرتا

کہاں تک رازِ عشق افشا نہ کرتا

کیا غرض لاکھ خدائی میں ہوں دولت والے

الفت نے تری ہم کو تو رکھا نہ کہیں کا

ہمراہ میری گور میں تصویر یار ہے

ادھر جاتا ہے دیکھیں یا ادھر پروانہ آتا ہے

ادھر جاتا ہے دیکھیں یا ادھر پروانہ آتا ہے

یہ وہ بچے ہیں جو ماں باپ سے پالے نہ گئے

فجر اٹھ خواب سیں گلشن میں جب تم نے ملی انکھیاں

ہمارا سانولا اس شہر کے گوروں میں کالا ہے

تو مری جان گر نہیں آتی

دل دیا جی دیا خفا نہ کیا

گلشن میں کبھی ہم سنتے تھے وہ کیا تھا زمانہ پھولوں کا

کوئی آسماں کیا سوا ہو گیا

موسٰی نہ غش میں آئیو ، اک بار دیکھنا

ہمسر جہاں میں کب ہے رسول کریم کا

تجھے پہلو میں رکھتا دل بنا کر

آبرو شاہ مبارک

عشق میں ان مکاروں کے بے فائدہ جلتے بھنتے ہیں