Posts

Showing posts with the label پروین شاکر

سکوں بھی خواب ہوا نیند بھی ہے کم کم پھر

شام ہوتی ہے تو وحشت نہیں دیکھی جاتی

خواب کیا کوئی دیکھے نیند کے انجام کے بعد

نسیم ہوتی ہوئی آئی ہے مدینے سے

سحاب تھا کہ ستارہ گریز پا ہی لگا

ہتھیلیوں کی دعا پھول لے کے آئی ہو

جب کبھی خوبی قسمت سے تجھے دیکھتے ہیں

تخت ہے اور کہانی ہے وہی

دکھ نوشتہ ہے تو آندھی کو لکھا آہستہ

سمندروں کے ادھر سے کوئی صدا آئی

تھک گیا ہے دل وحشی مرا فریاد سے بھی

نظر بھی آیا اسے اپنے پاس بھی دیکھا

رکی ہوئی ہے ابھی تک بہار آنکھوں میں

الزام تھا دیے پہ نہ تقصیر رات کی

لفظ بڑھے اور وعدے پھیلے دل کی حکایت ختم ہوئی

دشت غربت میں ہیں اور رنج سفر کھینچتے ہیں

زباں پہ تذکرہ بام و در نہیں لاتا

یہ غنیمت ہے کہ ان آنکھوں نے پہچانا ہمیں

وقت رخصت آ گیا دل پھر بھی گھبرایا نہیں

جیسے مشام جاں میں سمائی ہوئی ہے رات