Posts

Showing posts with the label حفیظ تائب

مہ صفا کی تجلیوں سے چمک اٹھا ریگ زار بطحا

کس طرح چاند نگر تک پہنچوں

ہجوم رنگ ہے میری ملول آنکھوں میں

تیرا مجرم آج حاضر ہو گیا دربار میں

دلوں کا شوق روحوں کا تقاضا گنبد خضرا

خوش ہوں کہ میری خاک ہی احمد نگر کی ہے

پرچم کشا جمال ہے شہر حبیب میں

بارگاہ پاک میں پہنچے ثنا کرتے ہوئے

باد رحمت سنک سنک جائے

اللہ نے پہنچایا سرکار کے قدموں میں

آنکھوں کو جسجتو ہے تو طیبہ نگر کی ہے

گھڑی مڑی جی بھر آوندا اے

الٰہی شاد ہوں میں تیرے آگے ہاتھ پھیلا کر

پھر ہوئی روح کیف سے معمور

جی رہا ہوں میں اس دیار سے دور

جب کیا میں نے قصد نعت حضور

دلوں کی تہہ میں پوشیدہ محبت دیکھنے والا

تج کے بے روح مشاغل اے دل

دے تبسم کی خیرات ماحول کو، ہم کو درکار ہے روشنی یا نبی

غریبوں کی جو ثروت ہیں ، ضعیفوں کی جو قوت ہیں