آنکھوں کو جسجتو ہے تو طیبہ نگر کی ہے
آنکھوں کو جسجتو ہے تو طیبہ نگر کی ہے
دل کو جو آرزو ہے تو خیرالبشرﷺ کی ہے
پالی ہے میں نے دین محمدﷺ کی سیدھی راہ
الیاس کی تلاش نہ حاجت خضر کی ہے
سرکارﷺ کی نظر ہے سبھی کچھ مرے لیے
مجھ کو طلب نہ جاہ کی ناسیم و زر کی ہے
جلوے بسے ہیں آنکھ میں ماہ حجاز کے
اب کیا مری نگاہ میں تابش قمر کی ہے
یا ذکر ہے مروت و خلق حضورﷺ کا
یابات بوے گل کی نسیم سحر کی ہے
آقا کی چشم لطف و عنائت سے پوچھئے
تائب جو منزلت مری اس چشم تر کی ہے
حفیظ تائب

Comments
Post a Comment