کیسا سکوت تھا جو روانی نگل گیا
کیسا سکوت تھا جو روانی نگل گیا
دریا سمندروں کا بھی پانی نگل گیا
برسوں سے جس نے عشق میں کاٹے تھے رتجگے
وہ سانپ آج رات کی رانی نگل گیا
بچپن میں ہاتھ چھوڑ کے بچھڑا تھا ایک شخص
یہ رنج میری ساری جوانی نگل گیا
تھیں اس قدر شدید ادب میں رقابتیں
ھر شعر اپنا مصرعہ ء ثانی نگل گیا
افسانہ ء حیات کا کردار بھی نہیں
تُو کس ہنر سے میری کہانی نگل گیا
دور ِ جدید ہونا ھے مغرب سے اب طلوع
مشرق روایتیں جو پرانی نگل گیا
ہاتھوں سے ہاتھ کھینچنا آساں نہ تھا مجھے
اک لمحہ زندگی کے معانی نگل گیا
سیلاب سارے پیڑ بہا کر زمین سے
کتنی محبتوں کی نشانی نگل گیا
فوزیہ شیخ
Comments
Post a Comment