میں دھول میں پھول کھلاتاہوں اس موجِ رواں کے اشارے پر

میں دھول میں پھول کھلاتاہوں اس موجِ رواں کے اشارے پر
کبھی ایک یقیں کی سرحد پر کبھی ایک گماں کے کنارے پر

سب منظر ٹھہرا ٹھہرا تھا سناٹا گہرا گہرا تھا
اک نام نے دل پر دستک دی اک بوند گری انگارے پر

کب آب خنک کی نہر ملی کب کوئی نگاہ مہر ملی
کس دھرتی نے کس مٹی نے احسان کیابنجارے پر

آنکھوں کوتوہر اک منظر سے سمجھوتے کی عادت تھی سورہی
دل دنیا سے بیگانہ تھاافتاد پڑی بیچارے پر

میں عالم سارا چھان گیا ہر چہرے کوپہچان گیا
مرے خوابوں کی آبادی ہے شاید کسی اورستارے پر
اسعد بدایونی

Comments