Posts

Showing posts with the label نوشی گیلانی

رکتا بھی نہیں ٹھیک سے چلتا بھی نہیں ہے

یہی نہیں کوئی طوفاں مری تلاش میں ہے

محبت کا دن

تیری خوشبو کا ہنر کھولیں گے

یہ میری عمر مرے ماہ و سال دے اس کو

ایک شعر نوشی گیلانی

بند ہوتی کتابوں میں اڑتی ہوئی تتلیاں ڈال دیں

کون روک سکتا ہے

ہجر کی شب میں قید کرے یا صبح وصال میں رکھے

کچھ بھی کر گزرنے میں دیر کتنی لگتی ہے

کون بھنور میں ملاحوں سے اب تکرار کرے گا

ہر ذرۂ امید سے خوشبو نکل آئے

صبح نہیں ہو گی کبھی دل میں بٹھا لےتو بھی

تجھ سے اب اور محبت نہیں کی جا سکتی

ڈھونڈنے جس میں زندگی نکلی

عشق کرو تو یہ بھی سوچو عرض سوال سے پہلے

نوشی گیلانی نظم

مزاروں پر محبت جاودانی سن رہے تھے

تری خوشبو نہیں ملتی، ترا لہجہ نہیں ملتا

روشنی دل کے دریچوں میں بھی لہرانے دے