ڈھونڈنے جس میں زندگی نکلی

ڈھونڈنے جس میں زندگی نکلی
وہ اُسی شخص کی گلی نکلی

وہ جو لگتی تھی کانچ کی گڑیا
ضرب پڑنے پہ آہنی نکلی

اُس حویلی میں چاند ڈھلنے پر
ھر دریچے سے روشنی نکلی

وہ ھَوا تو نہیں تھی لڑکی تھی
کس لیٔےاتنی سر پھری نکلی

وہ تِرے آسماں کا کیا کرتی
جس کی مٹی سے دوستی نکلی

تیرے لہجے میں کیا نہیں تھا مگر
صرف سچ کی ذرا کمی نکلی

نوشی گیلانی

Comments