Posts

Showing posts with the label ممتاز گورمانی

نیندوں کو جب خواب میں جوتا جاتا تھا

قلم کی نوک پہ رکھوں گا اس جہان کو میں

آنسووں میں پرو دیے گئے تھے

نشاط ہجر میں خود کو فنا کروں گا میں

عالم خواب میں یا قریہ پامال میں تھا

جو اک پل میں لپیٹے جا رہے تھے

میلے میں گر نظر نہ آتا روپ کسی متوالی کا

شناسا

مرثیے کے اشعار

سبھی کے سامنے آنکھوں کو چار کرتا ہوا

سخن میں حسن کی خوشبو اتار پھول بنا

تپتے صحرا میں قیامت کا سماں ہے بابا

اس کی آنکھوں پہ مان تھا ہی نہیں

بات کرتا ہے تو لگتا ہے کہ میں بولتا ہوں

حقائق مسترد ہونے سے پہلے

اس لیے تجھ سے ملاقات نہیں چاہتے ہیں

تم نے تو بات کی ہے بہت ہی کمال کی

متصل آنکھ رعایا کی رہی پانی سے

ہو گیا فیصلہ میں نہیں جا رہا

لینا نہیں تھا نام کسی کا مگر لیا