تپتے صحرا میں قیامت کا سماں ہے بابا
تپتے صحرا میں قیامت کا سماں ہے بابا
ریت اڑتی ہے، بگولے ہیں، دھواں ہے بابا
دل کسی ہجر زدہ کونج کا نوحہ بن کر
ہر گھڑی تجھ کو پکارے، تو کہاں ہے بابا
تیری آنکھوں میں جو حسرت تھی بوقتِ رخصت
دیکھ بیٹا تیرا گبھرو ہے، جواں ہے بابا
میں تجھے کیسے بتاؤں کہ ترا لختِ جگر
اس قدر عشق میں ٹوٹا کہ اماں ہے بابا
اک پری زاد نے آنکھوں میں بھرا تھا کاجل
اب وہ کاجل مری آنکھوں کا زیاں ہے بابا
تم تو اپنے ہو، مرے غم کو سمجھ سکتے ہو
ورنہ ہنسنے لگا مجھ پر یہ جہاں ہے بابا
تیرا ممتاز بھرے شہر میں غم کس کو سنائے
اب تو یہ شہر بھی اک شہرِ بتاں ہے بابا
ممتاز گورمانی
Comments
Post a Comment