انوکھی وضع ہے، سارے زمانے سے نرالے ہیں​

انوکھی وضع ہے، سارے زمانے سے نرالے ہیں​
یہ عاشق کون سی بستی کے یا رب ! رہنے والے ہیں​
علاج درد میں بھی، درد کی لذت پہ مرتا ہوں​
جو تھے چھالوں میں کانٹے نوکِ سُوزن سے نِکالے ہیں​
پَھلا پُھولا رہے یا رب! چَمن میری اُمیدوں کا​
جِگر کا خُون دے دے کر یہ بُوٹے مَیں نے پالے ہیں​
رُلاتی ہے مُجھے راتوں کو خاموشی سِتاروں کی​
نِرالا عِشق ہے میرا، نِرالے میرے نالے ہیں​
نہ پُوچھو مُجھ سے لذّت خانماں برباد رہنے کی​
نَشیمن سینکڑوں مَیں نے بناکر پُھونک ڈالے ہیں​
نہیں بَیگانگی اچّھی رفیقِ راہِ منزِل سے​
ٹھہرجا اے شَرر! ہم بھی تو آخرمِٹنے والے ہیں​
اُمیدِ حُور نے سب کُچھ سِکھا رکھّا ہے واعظ کو​
یہ حضرت دیکھنے میں سِیدھے سادے، بھولے بھالے ہیں​
مِرے اشعار اے اقبال ؔ! کیوں پیارے نہ ہوں مُجھ کو
مِرے ٹُوٹے ہُوئے دِل کے، یہ دردانگیز نالے ہیں

علامہ اقبالؔ

Comments