مزاج ہم سے زیادہ جدا نہ تھا اس کا
مزاج ہم سے زیادہ جدا نہ تھا اس کا
جب اپنے طَور یہی تھے، تو کیا گِلہ اُس کا
وہ اپنے زعم میں تھا، بے خبر رہا مُجھ سے
اُسے گُماں بھی نہیں، مَیں نہیں رہا اُس کا
وہ برق رَو تھا مگر رہ گیا کہاں جانے
اب اِنتطار کریں گے شکستہ پا اُس کا
چلو، یہ سیلِ بَلاخیز ہی، بنے اپنا
سفِینہ اُس کا، خُدا اُس کا، ناخُدا اُس کا
یہ اہلِ درد بھی کِس کی دُہائی دیتے ہیں
وہ چُپ بھی ہو تو زمانہ ہے ہمنوا اُس کا
ہَمِیں نے ترکِ تعلّق میں پہل کی، کہ فرازؔ !
وہ چاہتا تھا، مگر حوصلہ نہ تھا اُس کا
احمد فرازؔ
Comments
Post a Comment