چلو اسی سے کہیں دل کا حال جو بھی ہو

چلو اُسی سے کہیں، دِل کا حال جو بھی ہو
وہ چارہ گر تو ہے، اُس کا خیال جو بھی ہو
اُسی کے درد سے مِلتے ہیں سلسلے جاں کے
اُسی کے نام لگا دو، ملال جو بھی ہو
مرے نہ ہار کے ہم، قیس و کوہکن کی طرح
اب، عاشقی میں ہماری مثال جو بھی ہو
یہ رہگزر پہ، جو شمعیں دمکتی جاتی ہیں!
اُسی کا قامتِ زیبا ہے،  چال جو بھی ہو
فرازؔ ! اُس نے وَفا کی، کہ بےوفائی کی
جوابدہ، تو ہَمِیں ہیں، سوال جو بھی ہو
احمد فرازؔ

Comments