عجب نہیں ہے جو ایسے بھی وقت دینے لگے

عجب نہیں ہے جو ایسے بھی وقت دینے لگے
اُتار کر مجھے تختے سے تخت دینے لگے
سمجھ رہے تھے کہ سائے انھی کے دم سے ہیں
میں جا چکا تو صدائیں درخت دینے لگے
یہی تو بات کسی کو پسند آئی نہیں
ہم اپنے آپ کو تھوڑا سا وقت دینے لگے
یہ طے ہوا تھا کہ مل کے جہاں سے لڑنا ہے
ہم ایک دوجے کو لیکن شکست دینے لگے
فلک سے بنتی نہیں تھی اور اب زمیں والے
بیان میرے حوالے سے سخت دینے لگے
حسن ظہیر راجا

Comments