Posts

Showing posts with the label ریاض خیر آبادی

وہ کون ہے دنیا میں جسے غم نہیں ہوتا

راب ناب سے ساقی جو ہم وضو کرتے

آئینہ دیکھتے ہی وہ دیوانہ ہو گیا

یہ کافر بت جنہیں دعویٰ ہے دنیا میں خدائی کا

خیال شب غم سے گھبرا رہے ہیں

جو ہم آئے تو بوتل کیوں الگ پیر مغاں رکھ دی

ہمیں پینے پلانے کا مزا اب تک نہیں آیا

مطلب کی بات شکل سے پہچان جائیے

کل قیامت ہے قیامت کے سوا کیا ہوگا

مئے رہے مینا رہے گردش میں‌ پیمانہ رہے

جس دن سے حرام ہو گئی ہے

لَو دل کا داغ دے اٹھے ایسا نہ کیجیے

دل جلوں سے دل لگی اچھی نہیں

کل قیامت ہے قیامت کے سوا کیا ہو گا

وہ کون ہے دنیا میں جسے غم نہیں ہوتا

کوئی منہ چوم لے گا اس نہیں پر

ساغر چڑھائے پھول کے ہر شاخسار نے

سامنے ڈھیر ہیں ٹوٹے ہوئے پیمانوں کے

یہ سر بہ مہر بوتلیں ہیں جو شراب کی