وہ کون ہے دنیا میں جسے غم نہیں ہوتا
وہ کون ہے دنیا میں جسے غم نہیں ہوتا
کس گھر میں خوشی ہوتی ہے ماتم نہیں ہوتا
ایسے بھی ہیں دنیا میں جنہیں غم نہیں ہوتا
اک غم ہے ہمارا جو کبھی کم نہیں ہوتا
تم جا کے چمن میں گل و بلبل کو تو دیکھو
کیا لطف تہہ چادر شبنم نہیں ہوتا
کیا سرمہ بھری آنکھوں سے آنسو نہیں گرتے
کیا مہندی لگے ہاتھوں سے ماتم نہیں ہوتا
اڑتی تھی وہ شے آتی تھی جنت کی ہوائیں
اب رندوں کا جھگمٹ سر بزم نہیں ہوتا
یہ جان کے کیوں روۓ گا کوئی سر تربت
سبزے سے جدا قطرہء شبنم نہیں ہوتا
یہ شان گداۓ در مے خانہ ہے ساقی
بھولے سے وہ ہم بزم کی وجم نہیں ہوتا
مایوس اثر اشک عنادل نہیں پھرتے
مانوس اثر گریہء شبنم نہیں ہوتا
کچھ اور ہی ہوتی ہیں بگڑنے کی ادائیں
بننے میں سنورنے میں یہ عالم نہیں ہوتا
تسکین تو ہو جاۓ جو تو پھوٹ کے بہہ جاۓ
یہ تجھ سے بھی دیدہء پرغم نہیں ہوتا
مٹتے ہوۓ دیکھی ہےعجب حسن کی تصویر
اب کوئی مرے مجھ کو ذرا غم نہیں ہوتا
ریاض خیر آبادی
Comments
Post a Comment