آنکھ اٹھا کر بھی نہیں تکتی پکی اپنے یار کی ہے

ایک فقیر کی شُدھ آنکھوں سے  ایک بلوچن ہار گئی
جوگن بن کر پوچھ رہی ہے کیا مرضی سرکار کی ہے

کیا کیا عقلوں شکلوں والے اُس کے سامنے آتے ہیں
آنکھ اُٹھا کر بھی نہیں تکتی پکی اپنے یار کی ہے

شمس نے اک تحفہ بھیجا ہے تحفہ ہے خوشبو کا
خوشبو جانی پہچانی ہے رومی کے دوھار کی ہے

علی زریون

Comments