جب ان سے حال دل مبتلا کہا تو کہا بچائے تجھ سے خدا

جب ان سے حالِ دلِ مبتلا کہا، تو کہا "بچائے تجھ سے خدا"
کچھ اور اس کے سوا مدعا کہا، تو کہا  "ہماری جانے بلا"
کہا جو ان سے کہ ہو سر سے پاؤں تک بے عیب  تو بولے وہ "لاریب"
دغا شعار و ستم آشنا کہا، تو کہا  "ملے گی تجھ کو سزا"
غمِ فراق سنایا تو سن کے فرمایا "ہمیں نہ رحم آیا"
رقیب کا جو ذرا ماجرا کہا، تو کہا "یوں ہی سہی، تجھے کیا؟"
نہ دل دہی کا نہ عاشق کی جاں نوازی ہے "یہ بے نیازی ہے"
عذابِ پرسشِ روزِ جزا کہا، تو کہا  "ہمیں نہیں پروا"
"خدا کے بندوں پر ایسا ستم روا نہ کرو  "ذرا خدا سے ڈرو"
کسی غریب نے با التجا کہا، تو کہا  "کسی کو کیوں چاہا"
شکایتِ طپشِ غم سے کیا ہو دل ٹھنڈا "اثر ہو جب الٹا"
تمہاری باتوں سے دل جل گیا کہا، تو کہا  "جلانے میں ہے مزا"
عدو کا ذکر جو وہ چھیڑ سے نکالتے ہیں  "وہ صاف ٹالتے ہیں"
یہ کیا طریق ہے اے بے وفا! کہا، تو کہا  "تجھے تو ہے سودا"
پتے کی ان سے جو کوئی کہے قیامت ہے " کہ اس سے نفرت ہے"
حسیں کہا تو سنا، خود نما کہا، تو کہا بہت بگڑ کے "بجا"
شریر و شوخ ہے وہ داغؔ یہ تو ہے ظاہر  "عبث ہوئے تر بھر"
کسی نے چھیڑ سے تم کو برا کہا تو کہا "کہ چھیڑ کا ہے مزا"

داغ دہلوی

Comments