دوانہ وار مسلسل کلام کرتے ہیں

دوانہ وار،مسلسل کلام کرتے ہیں
حضورِ یار،مکمل کلام کرتے ہیں
شجر اداس ہیں لیکن بڑے خشوع کے ساتھ
سکوت اوڑھ کے ہر پل کلام کرتے ہیں
کئی مقام تو ایسے نظر سے گزرے ہیں
کہ حبس بڑھتا ہے، بادل کلام کرتے ہیں
تمھیں یہ کس نے کہا ہے کہ مصلحت میں رہو
جہاں پہ جبر ہو، پاگل! کلام کرتے ہیں
لہو کے رنگ میں رنگین کر کے جسموں کو
عدو کے سامنے مقتل کلام کرتے ہیں
اگر جلال میں آئیں تو دنیا والوں سے
فقیر، آنکھ سے اوجھل کلام کرتے ہیں
مجھے سعید، اداسی نے خامشی سے کہا
سفر طویل ہے تو چل، کلام کرتے ہیں

مبشر سعید

Comments