بیان کس سے کروں ماجرائے درد جگر

بیان کس سے کروں ماجرائے دردِ جگر
جگر کو تھام کے کہتا ہوں، ہائے دردِ جگر

وہ بیٹھیں کاش کبھی میرے داہنے پہلو میں
اسی علاج سے تسکین پائے دردِ جگر

مری طبیعت کو مشکل پہ سخت مشکل ہے
دوائے سوزشِ دل پھر دوائے دردِ جگر

کسے دماغ کہ احسان چارہ گر کے اٹھائے
یہی نا، موت ہے بس انتہائے دردِ جگر

تمہارے دستِ تسلی سے دردِ دل جو مٹے
تمہارے قدموں پہ مجھ کو لٹائے دردِ جگر

اُس انجمن میں اگر جم کے بیٹھ بھی جاؤں
ہزار مرتبہ اُٹھ کر اُٹھائے دردِ جگر

جو دردِ دل میں گرفتار تھا ترا بیمار
وہ رفتہ رفتہ ہوا مبتلائے دردِ جگر

ہمارے منہ کو کلیجہ اسی دم آتا ہے
اُسے سناتے ہیں جب ماجرائے دردِ جگر

کسے نصیب ہو ایسا مقام رہنے کو
مرے جگر پہ نا کیوں لوٹ جائے دردِ جگر

زمیں غزل کی یہ ہے داغؔ، یا شفا خانہ
سنا نا کان سے ہم نے سوائے دردِ جگر

داغؔ دہلوی

Comments