Posts

Showing posts with the label ندیم بھابھہ

عجیب ہوں کہ محبت شناس ہو کر بھی

اس کو اپنے پاس بلایا جا سکتا ہے

جسے ہوئی ہے محبت میں اب کے مات بہت

قیس و لیلیٰ کا طرف دار اگر مر جائے

سنو اے دشمنان دل معافی ہے معافی ہے

اوس کی طرح خواب تھے آنکھیں نمی سے بھر گئے

یہ نہر اور کنارے تمہیں سمجھتے ہیں

بہت شدت سے جو قائم ہوا تھا

مل رہے ہو بڑی عقیدت سے

کسی نگاہ کی تاثیر ہو کے کھلتے ہیں

ہمارے حافظے بے کار ہو گئے صاحب

شدید گریہ کا مطلب بتا رہا تھا ہمیں

صدا لپیٹ کے دل جائیں گے وگرنہ نہیں

ہم مریدوں کو یوں مراد ملی

بس یہی کچھ ہے مرتبہ مرے پاس

چشم نمناک نے سمجھنا ہے

میں کھجوروں بھرے صحراؤں میں دیکھا گیا ہوں

دل میں کیوں کر اتر نہیں جاتا