Posts

Showing posts with the label ناز خیالوی

نظر فریب نظاروں کو آگ لگ جائے

رات دن میزان غم پر تولتی رہ جائے گی

تمہاری راہگزر سے گزر کے دیکھتے ہیں

کہنے سننے کا سلیقہ ہے جسے جب آ جائے

جنون عشق یہ احسان کر گیا ہے میاں

محنت سے مرے ہاتھ پہ چھالے ہی رہے ہیں

دیکھتے ہو جو روز خواب میں خواب

کیوں نہ مجھ کو جان سے پیارے ہوں زخموں کے چراغ

اہل دل خواب ہوئے

کہو سن لیں کہ شعر ان کو ہمارے کچھ نہیں کہتے

آباد جتنے لوگ تھے بے گھر لگے مجھے

نا امید آنکھوں میں خوابوں کا سفر جاری رہا

پھلنے بڑھنے لگے ہیں صاحب زر اور بھی

ہر مشکل یوں ٹالی ہے

عظمت فکر و ہنر کے نام پر غزلیں کہیں

جب تصور میں کوئی چاند سا چہرہ اترا

ہجر کی را توں میں ننھا سا ایک دیا

آدمیت کی لاش پر تنہا

پھر مساوات و اخوت کے پیمبر جاگے

منقبت علیؓ ناز خیالوی