عظمت فکر و ہنر کے نام پر غزلیں کہیں

عظمتِ فکر و ہنر کے نام پر غزلیں کہیں

مستئِ ذوقِ غزل میں عمر بھر غزلیں کہیں

روح میں بستا رہا جب تک کوئی جانِ غزل

رات دن غزلیں کہیں، شام وسحر غزلیں کہیں

سرمئی بالوں پہ موزوں سانولے مصرعے کہے

جلوہ رخسار پر رشکِ سحر غزلیں کہیں

خرمنِ اغیار کو راکھ کر دیتی رہیں

میں نے ایسی بھی گئی برق و شرر غزلیں کہیں

اک زمانے کی قیادت کی مرے اشعار نے

بے خودی میں کیسی کیسی راہبر غزلیں کہیں

آئینے جتنے بنائے اتنے ہی پتھر سہے

اس قدر اعزاز پائے جس قدر غزلیں کہیں

سنگ باری اس طرف سے جانے کیوں ہوتی رہی

میں تو اپنی طرف سے بے ضرر غزلیں کہیں

بھیگے موسم نے بڑھا دی اور بھی دل کی جلن

کھل کے برسا ابر، میں ٹوٹ کر غزلیں کہیں

مقتلوں میں، سولیوں پر، تیغ کے سائے تلے

مستئی ” لایخزنو” میں جھوم کر غزلیں کہیں

نازؔ ہم نے لاج رکھی جراتِ اظہار کی

ظلم کے پہرے میں بے خوف و خطر غزلیں کہیں

ناز خیالوی

Comments