بھری دنیا میں آخر دل کو سمجھانے کہاں جائیں
بھری دنیا میں آخر دل کو سمجھانے کہاں جائیں
محبت ہو گئی جن کو وہ دیوانے کہاں جائیں
لگے ہیں شمع پر پہرے زمانے کی نگاہوں کے
جنھیں جلنے کی حسرت ہے وہ پروانے کہاں جائیں
سُنانا بھی جنھیں مشکل چُھپانا بھی جنھیں مشکل
ذرا تو ہی بتا اے دل وہ افسانے کہاں جائیں
نظر میں اُلجھنیں دل میں ہے عالم بیقراری کا
سمجھ میں کچھ نہیں آتا سکوں پانے کہاں جائیں
شکیل بدایونی
Comments
Post a Comment